MOJ E SUKHAN

نہ جانے کس لئے میں جی رہی ہوں

نہ جانے کس لئے میں جی رہی ہوں
غموں کا زہر ہنس کر پی رہی ہوں

عجب معیار ہے تیری طلب کا
کبھی رسوا کبھی اچھی رہی یوں

بظاہر خوش نظر آتی ہوں لیکن
دکھوں کے درمیاں میں جی رہی ہوں

نہ جانے کونسی خوبی تھی اس میں
میں دنیا میں فقط اس کی رہی ہوں

سمیٹوں کس طرح سوچوں کو اپنی
میں جب اک عمر ہی بکھری رہی ہوں

صدف !اس چار دن کی زندگی کو
حیا کی چنریوں میں سی رہی ہوں


صدف بنتِ اظہار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم