MOJ E SUKHAN

نہ جانے کیسے مٹے گی یہ آپسی رنجش

نہ جانے کیسے مٹے گی یہ آپسی رنجش
ہمارے گھر جو چلی آئی باہری رنجش

ہزاروں سائے تو اک پیڑ کے نہیں ہوتے
مری تو فہم سے باہر ہے مسلکی رنجش

سبھی کی ایک ہی منزل ہے آؤ ملکے چلیں
فنا نصیبو ! کہاں تک یہ باہمی رنجش!

نہیں ہے بندہ و معبود میں کوئی دوری
اگر نہ بیچ میں حائل ہو دشمنی،رنجش

وہ جنکو حکم تھا رسّی کو تھام کر رکھنا
انھیں کے بیچ پنپتی ہے لازمی رنجش

سکوتِ شب میں یہ کتبوں کے ٹوٹنے کی صدا
تہِ زمیں تو نہیں ہے یہ دنیوی رنجش !!

حجابِ چشم ہٹے گا تو سب عیاں ہوگا
ضرر رساں تھی کہ تھی کتنی قیمتی رنجش

ثمر یہ سوچ کے حیرت میں ڈوب جاتا ہوں
مسافرانِ فنا میں ہے دائمی رنجش

ثمر خانہ بدوش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم