MOJ E SUKHAN

نہ دور اس سے نہیں تو اے دل رنجور ہوجانا

نہ دور اس سے نہیں تو اے دل رنجور ہوجانا
کہ ان سے دور ہونا ہے خدا سے دور ہوجانا

ہوا ان کو گوارا دل ہی میں مستور ہو جانا
مبارک دل کے داغوں کو چراغ طور ہوجانا

ترے جلوؤں کو وقت صبح میں نے خوب دیکھا ہے
نکھر کر خلد بن جانا سنور کر حور ہوجانا

یہ میری سعی استقلال ہی کا ایک کرشمہ ہے
محبت میں وفا کا دائمی دستور ہوجانا

بناکر راز اپنا بھیج دینا مجھ کو دنیا میں
خود ان کا پردۂ اسرار میں مستور ہوجانا

پتہ دیتا ہے اے فطرت تری خود اختیاری کا
بقید اختیار انسان کا مجبور ہوجانا

جو وہ محفل میں آپہنچے تو اٹھنا ہی نہیں ممکن
وہ پہلے سے چلا جائے جسے منظور ہوجانا

دھندلکے میں ادھر اٹھنا حجاب راز مطلق کا
ادھر دل کا تجلیات سے معمور ہوجانا

ادھر ان کا نکلنا پردۂ اسرار سے باہر
ادھر ظلمات ہستی کا سراپا نور ہوجانا

انا کو ضبط کرنا فی الحقیقت سخت مشکل ہے
انا الحق کہہ کے کچھ مشکل نہیں منصور ہوجانا

نیاز عشق اس کےبعد مرض مستقل ٹھہرا
گوارا کوہکن کو کیوں ہوا مزدور ہوجانا

حقیقت میں تھا اک سخت انقلاب وقت اے قاتلؔ
جدا اجمیر سے اور لکھنؤ سے دور ہو جانا

قاتل اجمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم