MOJ E SUKHAN

نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہے

نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہے
محبت چاہئے تھی بس محبت چاہئے ہے

سہا جاتا نہیں ہم سے غم ہجر مسلسل
ذرا سی دیر کو تیری رفاقت چاہئے ہے

ترا دیدار ہو آنکھیں کسی بھی سمت دیکھیں
سو ہر چہرے میں اب تیری شباہت چاہئے ہے

کیا ہے تو نے جب ترک تعلق کا ارادہ
ہمیں بھی فیصلہ کرنے کی مہلت چاہئے ہے

یہ کیوں کہتے ہو راہ عشق پر چلنا ہے ہم کو
کہو کہ زندگی سے اب فراغت چاہئے ہے

نہیں ہوتی ہے راہ عشق میں آسان منزل
سفر میں بھی تو صدیوں کی مسافت چاہئے ہے

غم جاناں کے بھی کچھ دیر تو ہم ناز اٹھا لیں
غم دوراں سے تھوڑے دن کی رخصت چاہئے ہے

ہر اک اپنی ضرورت کے تحت ہم سے ہے ملتا
ہمیں بھی اب کوئی حسب ضرورت چاہئے ہے

ہے جب سے منعکس چہرہ بدلنے کا وہ منظر
ہماری آئنہ آنکھوں کو حیرت چاہئے ہے

جو نکلیں عالم وحشت سے پھر کچھ اور سوچیں
خرد سے رابطے رکھنے کو فرصت چاہئے ہے

فرحت ندیم ہمایوں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم