MOJ E SUKHAN

نہ رہے تم جو ہمارے تو سہارا نہ رہا

غزل

نہ رہے تم جو ہمارے تو سہارا نہ رہا
کوئی دنیائے محبت میں ہمارا نہ رہا

اب کوئی اور زمانے میں سہارا نہ رہا
جس کو کہتے تھے ہمارا ہے ہمارا نہ رہا

دے دیا حضرت عیسیٰ نے اسے صاف جواب
تیرے بیمار کا اب کوئی سہارا نہ رہا

کیا کہیں حال زمانے کا خلاصہ یہ ہے
تم ہمارے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا

کیا کہوں انجمن ناز کا حال اے بسملؔ
سب کے چرچے رہے بس ذکر تمہارا نہ رہا

بسمل الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم