MOJ E SUKHAN

نہ ساتھ دے گا کوئی راہ آشنا میرا

نہ ساتھ دے گا کوئی راہ آشنا میرا
جدا ہے سارے زمانے سے راستہ میرا

گزر کے آئی ہوں میں غم کے ریگزاروں سے
نظر اداس ہے دل ہے دکھا ہوا میرا

نہ جانے کس لیے قاتل کے اشک بھر آئے
فراز دار پہ جب سامنا ہوا میرا

دیار جاں میں فروزاں رہے گی شمع حیات
سمجھ لیا تری آنکھوں نے مدعا میرا

کیا ہے پیش تجھے آنسوؤں کا نذرانہ
ہجوم شام الم اور دل جلا میرا

وہ سانحہ مرے دل پر گزر گیا گلنارؔ
ہر ایک حرف دعا بے صدا ہوا میرا

گلنار آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم