MOJ E SUKHAN

نہ منزل سے نہ منزل کا نشاں تک

غزل

نہ منزل سے نہ منزل کا نشاں تک
جنوں لے جائے گا آخر کہاں تک

جہاں ممنوع ہے شغل فغاں تک
وہاں شکوے اگر آئے زباں تک

نہ اٹھواؤ ہمیں محفل سے اپنی
بڑی مشکل سے آئے ہیں یہاں تک

تمہیں محسوس ہوگا ساتھ ہوں میں
مجھے عالم میں ڈھونڈو گے جہاں تک

ہم ان راہوں پہ تنہا چل رہے ہیں
جہاں گم ہو گئے ہیں کارواں تک

قفس ہی میں بہت اچھے تھے بسملؔ
ملا کیا آ کے اجڑے آشیاں تک

بسمل آغائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم