MOJ E SUKHAN

نہ پھول ہوں نہ ستارہ ہوں اور نہ شعلہ ہوں

نہ پھول ہوں نہ ستارہ ہوں اور نہ شعلہ ہوں
گہر ہوں درد کا اور اشک بن کے رہتا ہوں

وہ ایک بچہ ہے حسرت سے دیکھتا ہے مجھے
میں اس کے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا کھلونا ہوں

یہ سوچ کر کہ بچھڑنا ہے ایک دن خود سے
میں اپنے آپ سے پہروں لپٹ کے رویا ہوں

عجیب شخص مری زندگی میں آیا تھا
نہ یاد رکھوں اسے اور نہ بھول سکتا ہوں

لرز رہی ہیں مری انگلیاں قلم تھامے
نہ جانے آج میں کیا بات لکھنے والا ہوں

مجھے پکار کہ میں ڈوب ہی نہ جاؤں کہیں
میں بے قرار سمندر میں اک جزیرہ ہوں

گزر چکے ہیں بہت کارواں ادھر سے سروشؔ
مگر میں اپنے ہی گرد سفر سے لپٹا ہوں

رفعت سروش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم