MOJ E SUKHAN

نہ چلمنوں کی حسیں سرسراہٹیں ہوں گی

نہ چلمنوں کی حسیں سرسراہٹیں ہوں گی
نہ ہوں گے ہم تو کہاں جگمگاہٹیں ہوں گی

میں ایک بھنورا ترے باغ میں رہوں نہ رہوں
کسے نصیب مری گنگناہٹیں ہوں گی

کواڑ بند کرو تیرہ بختو سو جاؤ
گلی میں یوں ہی اجالوں کی آہٹیں ہوں گی

نہ پوچھ پائیں گے احوال بے بسی وہ بھی
مرے لبوں پہ اگر کپکپاہٹیں ہوں گی

لہو نچوڑ لو ممکن ہے کل بہار کے بعد
رگوں میں پھیلی ہوئی سنسناہٹیں ہوں گی

وہ دن بھی آئے گا بیکلؔ چمن کے پھولوں پر
بنام جرم و خطا مسکراہٹیں ہوں گی

بیکل اتساہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم