MOJ E SUKHAN

نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے

غزل

نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے
کہ ہر عروج یہاں پر زوال رکھتا ہے

خدا ہی جانے میں آئی ہوں کیسے گلشن میں
یہاں تو خار بھی حسن و جمال رکھتا ہے

ہر ایک زخم پہ میرے نمک چھڑکتا ہے
وہ دوست میرا بہت ہی خیال رکھتا ہے

تمام رشتوں کو توڑا نہیں ابھی اس نے
خفا خفا ہے مگر بول چال رکھتا ہے

لبوں پہ اس کے شکایت نہیں ہے کوئی ولاؔ
مگر نظر میں ہزاروں سوال رکھتا ہے

ولاء جمال العسیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم