غزل
نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے
کہ ہر عروج یہاں پر زوال رکھتا ہے
خدا ہی جانے میں آئی ہوں کیسے گلشن میں
یہاں تو خار بھی حسن و جمال رکھتا ہے
ہر ایک زخم پہ میرے نمک چھڑکتا ہے
وہ دوست میرا بہت ہی خیال رکھتا ہے
تمام رشتوں کو توڑا نہیں ابھی اس نے
خفا خفا ہے مگر بول چال رکھتا ہے
لبوں پہ اس کے شکایت نہیں ہے کوئی ولاؔ
مگر نظر میں ہزاروں سوال رکھتا ہے
ولاء جمال العسیلی