MOJ E SUKHAN

نہ کسی جن سے، نہ حیوان سے ڈر لگتا ہے

نہ کسی جن سے، نہ حیوان سے ڈر لگتا ہے
آج کے دور میں انسان سے ڈر لگتا ہے

روز مرنے کی خبر آتی ہے رب کے گھر سے
اب تو مسجد کے ہر اعلان سے ڈر لگتا ہے

اے خدایا میری آنکھوں کو سمندر کر دے
شہر والوں کو بیابان سے ڈر لگتا ہے

ہم کو اللہ کے بندوں سے کوئی خوف نہیں
ہم کو کافر سے، مسلمان سے ڈر لگتا ہے

مطمئن ہوں کہ میرا ساتھ نبھاؤ گے مگر
دور ہو جانے کے امکان سے ڈر لگتا ہے

پھر نہ رشتہ کوئی آیا ہو جواں بیٹی کا
گھر میں آتے ہوئے مہمان سے ڈر لگتا ہے

مجھ کو آزاد کرو، مجھ کو بکھرنا ہے رضا
میں وہ گُل ہوں جِسے گلدان سے ڈر لگتا ہے

محمد رضا حیدری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم