نہ کوٸی دھوپ نہ سایہ نہ گھٹا آتی ہے
دشتِ ہجراں میں کہیں سے نہ صدا آتی ہے
ہجر کی رُت ہے یہاں غم کی تپش رہتی ہے
حَبس ہے اپنے ہی سانسوں کی ہوا آتی ہے
قتل کرنے کے علاوہ اُنہیں آ تا کیا ہے
یا لگانی اُنہیں ہاتھوں پہ حنا آتی ہے
جب بھی اُٹھتی ہے تیری یاد میں چاہت اپنی
تیرے چہرے کے خد و خال سجا آتی ہے
درد سینے میں اُٹھا ایسا ہو طوفان جیسے
دل کی دھڑکن سے بھی آوازِ قضا آتی ہے
جو بھی آیا تو کوٸی غرض ہی لے کر آیا
ھم سادہ ہیں ہمیں خوٸے وفا آتی ہے
تُم بکھر جاٶ گے ، بچھڑونہ ، ملے گا کاشف
ھم کو آپس میں ملانے کی دعا آتی ہے
صادق کاشف بوزدار