MOJ E SUKHAN

نہ کھو دیتے ترے جلوے تو یہ کس کو یقیں ہوتا

غزل

نہ کھو دیتے ترے جلوے تو یہ کس کو یقیں ہوتا
دم نظارہ جلووں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا

خدا جانے کہ اس حسرت میں کتنے جان کھو بیٹھے
ترا جلوہ کسی دن خاتم دل کا نگیں ہوتا

طلب اور جستجو شرط مقدم ہے مگر پھر بھی
نہ چاہیں خود ہی وہ جب تک کسی سے کچھ نہیں ہوتا

تری یکتائی کی خاطر خیال اپنا بٹایا ہے
تصور حد سے بڑھ جاتا تو صورت آفریں ہوتا

ہزاروں غفلتوں سے سابقہ دن رات پڑتا ہے
مگر دل ہے کہ اس کی یاد سے غافل نہیں ہوتا

کبھی افتادگی کی قوتیں بھی دیکھیے کاملؔ
وہیں سے کام بنتا ہے جہاں کچھ بھی نہیں ہوتا

کامل شطاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم