MOJ E SUKHAN

نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے

نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم

نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہیں اس کو نواز دیں یہ در حبیب کی بات ہے

جسے چاہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

وہ خدا نہیں بخدا نہیں وہ مگر خدا سے جدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ ہیں کیا نہیں یہ محب حبیب کی بات ہے

وہ مچل کے راہ میں رہ گئی یہ تڑپ کے در سے لپٹ گئی
وہ کسی امیر کی آہ تھی یہ کسی غریب کی بات ہے

تجھے اے منورؔ بے نوا در شہہ سے چاہئے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے

منور بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم