MOJ E SUKHAN

نہ گرے کہیں نہ ہرے ہوئے کئی سال سے

غزل

نہ گرے کہیں نہ ہرے ہوئے کئی سال سے
یوں ہی خشک پات جڑے رہے تری ڈال سے

کوئی لمس تھا جو سراپا آنکھ بنا رہا
کوئی پھول جھانکتا رہ گیا کسی شال سے

تری کائنات سے کچھ زیادہ طلب نہیں
فقط ایک موتی ہی موتیوں بھرے تھال سے

تو وہ ساحرہ کہ طلسم تیرا عروج پر
میں وہ آگ ہوں جو بجھے گی تیرے زوال سے

ترے موسموں کے تغیرات عجیب ہیں
میں قبا بنانے لگا ہوں پیڑ کی چھال سے

پارس مزاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم