MOJ E SUKHAN

نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب

Na Gul say hay Gharaz teray Na hay gulzaar say matlab

غزل

نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب
رکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب

یہ دل دام نگہ میں ترک کے بس جا ہی اٹکا ہے
بر آوے کس طرح اللہ اب خوں خوار سے مطلب

بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ
مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب

نہ سمجھا ہم کو تو نے یار ایسی جاں فشانی پر
بھلا پاویں گے اے ناداں کسی ہشیار سے مطلب

نہ چنداؔ کو طمع جنت کی نے خوف جہنم ہے
رہے ہے دو جہاں میں حیدر کرار سے مطلب

ماہ لقا بائی چندا

Mah laqa baaee Chanda

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم