MOJ E SUKHAN

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے
ترا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے

کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہے
جسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے

وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے
محبت بھی تنہائی دائمی ہے

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں
نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

ارے او جفاؤں پہ چپ رہنے والو
خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے

مرے راہبر مجھ کو گمراہ کر دے
سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے

خمارؔ بلا نوش تو اور توبہ
تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے

خمار بارہ بنکوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم