MOJ E SUKHAN

نہ ہو جس پہ بھروسہ اس سے ہم یاری نہیں رکھتے

غزل

نہ ہو جس پہ بھروسہ اس سے ہم یاری نہیں رکھتے
ہم اپنے آشیاں کے پاس چنگاری نہیں رکھتے

فقط نام محبت پر حکومت کر نہیں سکتے
جو دشمن سے کبھی لڑنے کی تیاری نہیں رکھتے

خریداروں میں رہ کر زندگی وہ بک بھی جاتے ہیں
ترے بازار میں جو لوگ ہشیاری نہیں رکھتے

بناؤ گھر نہ مٹی کے لب ساحل اے نادانو
سمندر تو کناروں سے وفاداری نہیں رکھتے

انا کو سختیٔ حالات اکثر توڑ دیتی ہے
اسی ڈر سے کبھی فطرت میں خودداری نہیں رکھتے

در و دیوار سے ان کے بھلا کیا آئے گی خوشبو
جو گھر کے صحن میں پھولوں کی اک کیاری نہیں رکھتے

فقط لفظوں سے ہم داناؔ ہنر کی داد لیتے ہیں
قلم والے کبھی شوق اداکاری نہیں رکھتے

عباس دانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم