MOJ E SUKHAN

نہ ہو گر دھیان میں چہرہ کسی کا

غزل

نہ ہو گر دھیان میں چہرہ کسی کا
بہت مشکل سفر ہے زندگی کا

گلی کوچے بہت روشن ہیں لیکن
گھروں میں مسئلہ ہے روشنی کا

چنوں پلکوں سے کب تک سنگریزے
خداوندا کوئی آنسو خوشی کا

زمیں صدیوں پرانی ہو چکی ہے
سہے گی بوجھ کب تک آدمی کا

نہ جانے اور کتنا فاصلہ ہے
ہماری زندگی سے زندگی کا

کوئی خود سے مجھے کمتر سمجھ لے
یہ مطلب بھی نہیں ہے عاجزی کا

طلب نے چھین لی بینائی خاور
کروں کیا راہ کی میں روشنی کا

رحمان خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم