MOJ E SUKHAN

نیند آتی ہے مگر خواب نہیں آتے ہیں

نیند آتی ہے مگر خواب نہیں آتے ہیں
مجھ سے ملنے مرے احباب نہیں آتے ہیں

شہر کی بھیڑ سے خود کو تو بچا لاتا ہوں
گو سلامت مرے اعصاب نہیں آتے ہیں

تشنگی دشت کی دریا کو ڈبو دے نہ کہیں
اس لیے دشت میں سیلاب نہیں آتے ہیں

ڈوبتے وقت سمندر میں مرے ہاتھ لگے
وہ جواہر جو سر آب نہیں آتے ہیں

یا انہیں آتی نہیں بزم سخن آرائی
یا ہمیں بزم کے آداب نہیں آتے ہیں

ہم نشیں دیکھ مکافات عمل ہے دنیا
کام کچھ بھی یہاں اسباب نہیں آتے ہیں

رمزی آثم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم