Neend Aankhoo Main Musalsal Nahi Honay Deta
غزل
نیند آنکھوں میں مسلسل نہیں ہونے دیتا
وہ مرا خواب مکمل نہیں ہونے دیتا
آنکھ کے شیش محل سے وہ کسی بھی لمحے
اپنی تصویر کو اوجھل نہیں ہونے دیتا
رابطہ بھی نہیں رکھتا ہے سرِ وصل کوئی
اور تعلق بھی معطل نہیں ہونے دیتا
وہ جو اک شہر ہے پانی کے کنارے آباد
اپنے اطراف میں دلدل نہیں ہونے دیتا
جبکہ تقدیر اٹل ہے تو دعا کیا معنی
ذہن اس فلسفے کو حل نہیں ہونے دیتا
دل تو کہتا ہے اسے لوٹ کے آنا ہے یہیں
یہ دلاسا مجھے پاگل نہیں ہونے دیتا
قریہِ جاں پہ کبھی ٹوٹ کے برسیں روحی
ظرف اشکوں کو وہ بادل نہیں ہونے دیتا
ریحانہ روحی
Rehana Roohi