MOJ E SUKHAN

نیند راتوں کی اڑا دیتے ہیں

غزل

نیند راتوں کی اڑا دیتے ہیں
ہم ستاروں کو دعا دیتے ہیں

روز اچھے نہیں لگتے آنسو
خاص موقعوں پہ مزا دیتے ہیں

اب کے ہم جان لڑا بیٹھیں گے
دیکھیں اب کون سزا دیتے ہیں

ہائے وہ لوگ جو دیکھے بھی نہیں
یاد آئیں تو رلا دیتے ہیں

دی ہے خیرات اسی در سے کبھی
اب اسی در پہ صدا دیتے ہیں

آگ اپنے ہی لگا سکتے ہیں
غیر تو صرف ہوا دیتے ہیں

کتنے چالاک ہیں خوباں علویؔ
ہم کو الزام وفا دیتے ہیں

محمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم