MOJ E SUKHAN

هو جائے وہ جس روز پشیمان اچانک

هو جائے وہ جس روز پشیمان اچانک
لوٹ آئے گا کر کے مجھے حیران اچانک

تب جا کے مرے نطق کو گویائ ملی ھے
جب ہونے لگی حرف کی پہچان اچانک

وسعت تو تری کم نہیں اے خانہ ء ویراں
کیوں آکے چلے جاتے ہیں مہمان اچانک

اک أه کہ دینے لگی دستک درِ دل پر
اک شام کی جانب جو گیا دھیان اچانک

تم ہم سے فقیروں کے ٹھکانوں پہ جو آ ؤ
ہو جائے گا یہ وقت مہربان اچانک

رات آئ تو یادوں کی پزیرائی کو آئ
کمرے میں کئی غم ہوۓ یکجان اچانک

خوش آیا ھے وحشت کو مری کرب کا صحرا
کھلتے ہیں یہاں بے سروسامان اچانک

لوٹ آئ ہوں میں درد کے اک دشتِ لم سے
اک شخص کے آنے کا تھا امکان اچانک

بجھ جائیں گی اک دن مری تخلیق کی شمعیں
مٹ جائے گی پروین کی پہچان اچانک

پروین حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم