MOJ E SUKHAN

واقعی یہ جو گنہگار نظر آتے ہیں

غزل

واقعی یہ جو گنہگار نظر آتے ہیں
سارے اوپر سے چمکدار نظر آتے ہیں

آپ کے پاس ہیں ہر رنگ کی خبریں صاحب
آپ تو آج کا اخبار نظر آتے ہیں

بیٹھی ملتی ہے رعایا بھی جہاں گھٹنوں پر
آج انھیں شاہوں کے دربار نظر آتے ہیں

سبکو فکشن میں ضرورت نے جکڑ رکھا ہے
اس میں دوچار جو کردار نظر آتے ہیں

اصل میں یہ بھی ہیں مزدور دہاڑی والے
آپ لوگوں کو جو فنکار نظر آتے ہیں

کل تلک لوگ جو ٹکڑوں پہ پلا کرتے تھے
آج وہ سارے ہی زردار نظر آتے ہیں

خون سے اپنے مرے پرکھوں نے سینچا تھا جسے
وہ بیابان بھی گلزار نظر آتے ہیں

زندگی میں نہ کبھی بہر عیادت آئے
بعد مرنے کے جو حقدار نظر آتے ہیں

ہر کسی کو بری لگتی ہے یہ دنیا نصرت
پھر بھی سب اس کے طلب گار نظر آتے ہیں

نصرت عتیق گورکھپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم