MOJ E SUKHAN

وحشت دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا مجھ کو

غزل

وحشت دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا مجھ کو
دیکھنا ہے ابھی کیا کہتی ہے دنیا مجھ کو

اثر قید تعین سے بھی آزاد ہے دل
کس طرح بند علایق ہو گوارا مجھ کو

لینے بھی دے ابھی موج لب ساحل کے مزے
کیوں ڈبوتی ہے ابھرنے کی تمنا مجھ کو

خواہش دل تھی کہ ملتا کہیں سودائے جنوں
میں نے کیا مانگا تھا قسمت نے دیا کیا مجھ کو

تیری بے پردگیٔ حسن نے آنکھیں کھولیں
تنگ دامانیٔ نظارہ تھی پردا مجھ کو

آخری دور میں مدہوش ہوا تھا لیکن
لغزش پا نے مری خوب سنبھالا مجھ کو

عمر ساری تو کٹی دیر و حرم میں اے شوقؔ
اس پہ سجدہ بھی تو کرنا نہیں آیا مجھ کو

پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم