MOJ E SUKHAN

وحشت سی وحشت ہوتی ہے

غزل

وحشت سی وحشت ہوتی ہے
زندہ ہوں حیرت ہوتی ہے

جل بجھنے والوں سے پوچھو
غم کی کیا حدت ہوتی ہے

رہن نہ رکھ دینا بینائی
اس کی بھی مدت ہوتی ہے

سارے قرض چکا دینے کی
کبھی کبھی عجلت ہوتی ہے

دل اور جان کے سودے جو ہیں
ان میں کب حجت ہوتی ہے

خود سے جھوٹ کہاں تک بولیں
تھوڑی سی خفت ہوتی ہے

اپنے آپ سے ملنے میں بھی
اب کتنی دقت ہوتی ہے

خود سے باتیں کرنے کی بھی
اب کس کو فرصت ہوتی ہے

کچھ کہہ لو روکھی سوکھی میں
اپنے ہاں برکت ہوتی ہے

سونا سی مٹی کے گھر میں
کب ہم سے محنت ہوتی ہے

دھان ہمارے چڑیا کھائیں
چڑیوں کو عادت ہوتی ہوتی ہے

بچوں سے کیا شکوہ کرنا
مٹی میں الفت ہوتی ہے

سبز کواڑوں کی جھریوں میں
جگنو یا حیرت ہوتی ہے

ٹاٹ کے مٹ میلے پردوں میں
کیا اجلی رنگت ہوتی ہے

پھٹی پرانی سی چنری میں
کیا بھولی صورت ہوتی ہے

چاول کی پیلی روٹی میں
کیا سوندھی لذت ہوتی ہے

رلی کے ایک اک ٹانکے میں
پوروں کی چاہت ہوتی ہے

جاڑے اوڑھ کے سو جانے میں
کب کوئی زحمت ہوتی ہے

شام کو تیرا ہنس کر ملنا
دن بھر کی اجرت ہوتی ہے

عشرت آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم