وصل کا رنگ یہ نیا دیکھا
قربتوں میں بھی فاصلہ دیکھا
جو گلہ میں نہ لا سکا لب پر
اس کے لب پر وہی گلہ دیکھا
مہرباں ہے کبھی گریزاں ہے
یہ ستم اس کا بارہا دیکھا
ہاتھ اپنا چھڑا کے اپنوں نے
مجھ کو ساحل سے ڈوبتا دیکھا
زندہ لوگوں کو زندگی نہ ملی
زندہ رہ کر یہ سانحہ دیکھا
بڑھ گئی اور دل کی بیتابی
اس کی پلکوں پہ اشک کیا دیکھا
ہو گئے وہ سعید کیوں برہم
پاس میرے جب آئینہ دیکھا
احمد سعید خان