MOJ E SUKHAN

وصل کا رنگ یہ نیا دیکھا

وصل کا رنگ یہ نیا دیکھا
قربتوں میں بھی فاصلہ دیکھا


جو گلہ میں نہ لا سکا لب پر
اس کے لب پر وہی گلہ دیکھا


مہرباں ہے کبھی گریزاں ہے
یہ ستم اس کا بارہا دیکھا


ہاتھ اپنا چھڑا کے اپنوں نے
مجھ کو ساحل سے ڈوبتا دیکھا


زندہ لوگوں کو زندگی نہ ملی
زندہ رہ کر یہ سانحہ دیکھا


بڑھ گئی اور دل کی بیتابی
اس کی پلکوں پہ اشک کیا دیکھا


ہو گئے وہ سعید کیوں برہم
پاس میرے جب آئینہ دیکھا

احمد سعید خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم