MOJ E SUKHAN

وقار اپنے بزرگوں کا ذرا بھی کم نہیں کرتے

غزل

وقار اپنے بزرگوں کا ذرا بھی کم نہیں کرتے
کبھی ہم ظالموں کے سامنے سر خم نہیں کرتے

تواضع کے لیے کانٹوں کی ان کو پال رکھا ہے
سفر میں ہم مسافر آبلوں کا غم نہیں کرتے

ہم اہل ظرف خوشیوں میں بھی قابو خود پہ رکھتے ہیں
دکھی ہو کر بھی دکھ سے آستینیں نم نہیں کرتے

ہمارے لفظ زخموں کے لیے بنتے تو ہیں مرہم
مگر پھر بھی مسیحائی کا دعویٰ ہم نہیں کرتے

نظر رکھتے ہیں مستقبل کی جانب ہم نظر والے
کبھی گزرے زمانوں کے لیے ماتم نہیں کرتے

فلک والوں کی جانب ان کی ساری مہربانی ہے
غریبوں پر توجہ قبلۂ عالم نہیں کرتے

کتابوں سے بھرے بستوں نے کچھ ایسا دبایا ہے
نیازؔ اس دور کے بچے بہت اودھم نہیں کرتے

عبدالمتین نیاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم