MOJ E SUKHAN

وقت کے ساتھ بدلتے ہیں ہمارے رشتے

وقت کے ساتھ بدلتے ہیں ہمارے رشتے
بس ضرورت کے زمانے میں ہیں سارے رشتے

کوئی تحفہ بھی ضروری ہے چلانے کو انہیں
چل نہیں پاتے ہیں رشتوں کے سہارے رشتے

ٹوٹ بھی جائیں مگر ٹوٹ کے جُڑ جاتے ہیں
جیسے دریا سے نبھاتے ہیں کنارے رشتے

خون کے ، دل کے ، وفا کے یا کوئی اور سہی
جب بھی بگڑے ہیں تو پھر کس نے سنوارے رشتے

ایسے رشتے کہ جو بے نام ہیں بے منزل ہیں
یہی بس ساتھ نبھاتے ہیں بے چارے رشتے

جو بھی ملتا ہے ، نیا رشتہ بنا لیتے ہو
رازؔ دُکھ دیتے ہیں پھر تم کو تمہارے رشتے

رازداں راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم