MOJ E SUKHAN

وقت کے ہاتھوں نے جب تک کہ نہ خاموش کیا

وقت کے ہاتھوں نے جب تک کہ نہ خاموش کیا
میں نے تجھ کو نہ کسی لمحہ فراموش کیا

اس کی چاہت نے سنورنے کا سلیقہ بخشا
شہر کے شہر کو اس شخص نے خوش پوش کیا

ہجر کے صدمے بہت بخشے یہ سچ ہے لیکن
لذت وصل سے بھی اس نے ہم آغوش کیا

وقت کی دھول نے کجلا دئے سورج کتنے
کیسے کیسوں کو زمانے نے فراموش کیا

تیری قربت نے سکھائی تھی مجھے مے نوشی
اور فرقت نے تری مجھ کو بلانوش کیا

کیا ملا ترک تعلق سے بھی مجھ کو جاویدؔ
یاد نے چھوڑا نہ غم ہی نے سبک دوش کیا

جاوید نسیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم