غزل
وہم کے جبر کے مارے ہوئے انسانوں پر
آگہی طنز کیا کرتی ہے افسانوں پر
کوئی افتاد نہ آ جائے ستم رانوں پر
ضو فشاں صبح کا پرچم ہے شبستانوں پر
خواب دوشیں سے مسافر نہ کہیں جاگ پڑیں
ظلم نے روک لگا دی ہے حدی خوانوں پر
اے مری آبلہ پائی یہ بتا دے مجھ کو
رنگ لہرائیں گے کس روز بیابانوں پر
نہ ڈرا گردش دوراں سے جواں مردوں کو
گرد جمتی نہیں بپھرے ہوئے طوفانوں پر
یہ دل ہجر زدہ یہ تری یادوں کا نزول
برف جس طرح سے گرتی ہے کہستانوں پر
آ گیا کشمکش سود و زیاں کا ہنگام
دشت کرنے لگے پتھراؤ طرب خانوں پر
خون دل سرخیٔ آغاز بہاراں ہے عروجؔ
رنگ لہرائیں گے جھلسے ہوئے میدانوں پر
عبد الرؤف عروج