MOJ E SUKHAN

وہی ہوتی ہے رہبر جو تمنا دل میں ہوتی ہے

وہی ہوتی ہے رہبر جو تمنا دل میں ہوتی ہے
بقدر ہمت رہرو کشش منزل میں ہوتی ہے

محبت دل میں ہوتی ہے تمنا دل میں ہوتی ہے
جوانی عمر کی کتنی حسیں منزل میں ہوتی ہے

محبت اے معاذ اللہ محبت دم نکل جائے
اگر محسوس بھی اتنی ہو جتنی دل میں ہوتی ہے

ٹھہرنے بھی نہیں دیتی ہے اس محفل میں بیتابی
مگر تسکین بھی جا کر اسی محفل میں ہوتی ہے

مرا کیا ساتھ دیں گے غیر بحر عشق میں بسملؔ
وہ اس کشتی میں ہیں جو دامن ساحل میں ہوتی ہے

بسمل سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم