MOJ E SUKHAN

وہی ہے طرز تغافل وہی ہے خو مجھ میں

غزل

 

وہی ہے طرز تغافل وہی ہے خو مجھ میں
اتر گیا ہو وہ جیسے کہ ہو بہ ہو مجھ میں

میں منزلوں کو بھی اب رہ گزر سمجھتا ہوں
کہاں سے امڑا ہے یہ شوق جستجو مجھ میں

رہے گا زندگی پہ فخر تا دم آخر
اگر جھلکتی رہی شان آبرو مجھ میں

خوشی یہی ہے بالآخر کسی کے کام آئے
بچا ہوا ہے جو اک بوند بھر لہو مجھ میں

اگرچہ میکدے میں جا سکا نہ مدت سے
بسا ہے اب بھی مگر شور‌ ہا و ہو مجھ میں

یہ کس کے دم سے چراغاں ہے میری بزم خیال
یہ کون کرتا ہے چھپ چھپ کے گفتگو مجھ میں

کسی طرح سے مری برتری نہ ہو پائی
خیال دوست بھی بن کر رہا عدو مجھ میں

مجھے یقین ہے وہ دن ضرور آئے گا
کہ جب میں تجھ میں سماؤں گا اور تو مجھ میں

بنا ہے مرجع احباب گھر مرا گوہرؔ
در آئی مہر و محبت کی جب سے بو مجھ میں

کلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم