MOJ E SUKHAN

وہ اپنی ذات میں گم تھا نہیں کھلا مرے ساتھ

وہ اپنی ذات میں گم تھا نہیں کھلا مرے ساتھ
رہا ہے ساتھ مرے پر نہیں رہا مرے ساتھ

یہ تیری یاد کا اعجاز ہی تو ہے کہ یہ دل
میں جل کے راکھ ہوا ہوں نہیں جلا مرے ساتھ

ترے خلاف کیا جب بھی احتجاج اے دوست
مرا وجود بھی شامل نہیں ہوا مرے ساتھ

مرا جو رستہ تھا دراصل راستہ تھا وہی
یہ اور بات زمانہ نہیں چلا مرے ساتھ

نبھا سکا نہ تعلق کوئی بھی میں فرتاشؔ
یہاں ہے کون کہ جس کو نہیں گلہ مرے ساتھ

فرتاش سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم