MOJ E SUKHAN

وہ اک جھلک دکھا کے جدھر سے نکل گیا

وہ اک جھلک دکھا کے جدھر سے نکل گیا
اتنی تپش بڑھی کہ زمانہ پگھل گیا

اب دل سے کچھ کہو تو یہ دل مانتا نہیں
اے التفات یار تیرا وار چل گیا

ہر بزم اس نگاہ کے گرداب میں رہی
ہر دور اس مزاج کے سانچے میں ڈھل گیا

اب تو جنوں بھی اس کی طرف کھینچتا نہیں
اندھا رفیق کار بھی آنکھیں بدل گیا

وہ دور تھا تو ہجر کی گرمی سے تھے نڈھال
وہ آ گیا تو ہجر کا موسم نکل گیا

سونے پڑے ہیں دل کے در و بام اے ظہیرؔ
لاہور جب سے چھوڑ کے جان غزل گیا

ظہیر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم