MOJ E SUKHAN

وہ اک نظر سے مجھے بے اساس کر دے گا

وہ اک نظر سے مجھے بے اساس کر دے گا
مرے یقین کو میرا قیاس کر دے گا

میں جب بھی اس کی اداسی سے اوب جاؤں گی
تو یوں ہنسے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا

ملا کے مجھ سے نگاہیں وہ میری نظروں کے
ذرا سی دیر میں خالی گلاس کر دے گا

پھر اس طرح سے رہے گا مرے خیالوں میں
کہ میری پیاس کو دریا کی پیاس کر دے گا

میں اس کی گرد ہٹاتے ہوئے بھی ڈرتی ہوں
وہ آئینہ ہے مجھے خود شناس کر دے گا

میں اس کے سامنے عریاں لگوں گی دنیا کو
وہ میرے جسم کو میرا لباس کر دے گا

وہ ماہتاب صفت صرف روشنی ہی نہیں
مجھی کو رات کا منظر بھی خاص کر دے گا

عزیز بانو دراب وفا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم