MOJ E SUKHAN

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے
کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے

یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں
مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے

رتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیں
کہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے

رہا جو دھوپ میں سر پر مرے وہی آنچل
ہوا چلی ہے تو کتنا بدلتا جاتا ہے

وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر سمجھے
تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے

نوشی گیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم