MOJ E SUKHAN

وہ بوئے گل ہے تو پاؤں زمین پر ہی نہیں

غزل

وہ بوئے گل ہے تو پاؤں زمین پر ہی نہیں
میں سر جھکاؤں کہاں کوئی سنگ در ہی نہیں

نظر بچا کے ترے غم سے میں گزر جاؤں
مری نگاہ میں ایسی تو رہ گزر ہی نہیں

قفس نصیبوں پہ گزری ہے کیا خدا جانے
سنا ہے جسم پہ اب ان کے بال و پر ہی نہیں

اٹھے بھی کیوں نگہ باغباں مری جانب
میں وہ درخت ہوں جس میں کوئی ثمر ہی نہیں

ذرا یہ شان تغافل تو دیکھیے ان کی
میں ان کے پاس کھڑا ہوں انہیں خبر ہی نہیں

جنوں کا قافلہ منزل پہ کس طرح پہنچے
تمہاری یاد کی خوشبو تو ہم سفر ہی نہیں

مری حیات مسلسل جہاد ہے شاداںؔ
حوادثات زمانہ کا مجھ کو ڈر ہی نہیں

شاداں بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم