وہ بھی وقت آیا تھا جب وہ زیب فراز بام ہوئے
لیکن تاب دید کسے تھی اہل نظر ناکام ہوئے
رفتہ رفتہ جوش جنون عشق ہمیں راس آ ہی گیا
ہر لمحہ تسکین دل کو ان کے جلوے عام ہوئے
ان کا کیف ہے ان کی مستی ان کی ہستی رشک جہاں
ساقی کی آنکھوں سے میسر جن رندوں کو جام ہوئے
وہ آنکھیں وہ زلفیں وہ رخ وہ غمزے وہ ناز و ادا
کس نے اسیر دام کیا ہم خود ہی اسیر دام ہوئے
ہم ہیں سراپا عشق و محبت ہم ہیں امین راز وفا
روز ازل سے اپنا مقدر درد و غم و آلام ہوئے
مجھ کو مٹانے میں اے صادقؔ دنیا تو سر گرم رہی
لیکن ان کی یاد کے لمحے جینے کا پیغام ہوئے
صادق دہلوی