MOJ E SUKHAN

وہ بھی کچھ بھولا ہوا تھا میں کچھ بھٹکا ہوا

غزل

وہ بھی کچھ بھولا ہوا تھا میں کچھ بھٹکا ہوا
راکھ میں چنگاریاں ڈھونڈی گئیں ایسا ہوا

داستانیں ہی سنانی ہیں تو پھر اتنا تو ہو
سننے والا شوق سے یہ کہہ اٹھے پھر کیا ہوا

عمر کا ڈھلنا کسی کے کام تو آیا چلو
آئنے کی حیرتیں کم ہو گئیں اچھا ہوا

رات آئی اور پھر تاریخ کو دہرا گئی
یوں ہوا اک خواب تو دیکھا مگر دیکھا ہوا

وہ کسی کو یاد کر کے مسکرایا تھا ادھر
اور میں نادان یہ سمجھا کہ وہ میرا ہوا

اقبال اشہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم