MOJ E SUKHAN

وہ بھی گمراہ ہو گیا ہوگا

وہ بھی گمراہ ہو گیا ہوگا
میرا بد خواہ ہو گیا ہوگا

میرے حق میں جو بول اٹھا ہے
درد آگاہ ہو گیا ہوگا

سجدۂ شوق جو ادا نہ ہوا
سنگ درگاہ ہو گیا ہوگا

حادثے کی ہمیں خبر ہی نہیں
خیر ناگاہ ہو گیا ہوگا

واقعہ آپ تک نہیں پہنچا
نذر افواہ ہو گیا ہوگا

صورت حال دیکھ کر وہ بھی
تیرے ہم راہ ہو گیا ہوگا

وقت کے ساتھ ساتھ اس کا قد
اور کوتاہ ہو گیا ہوگا

اس برس بھی نہ آ سکا فرتاشؔ
وقف تنخواہ ہو گیا ہوگا

فرتاش سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم