MOJ E SUKHAN

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھا

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھا
ایک دامن بھی تو الجھا ہوا خاروں میں نہ تھا

اشک غم تھم گئے یاد آتے ہی ان کی صورت
جب چڑھا چاند تو پھر نور ستاروں میں نہ تھا

مرنے جینے کو نہ سمجھے تو خطا کس کی ہے
کون سا حکم ہے جو ان کے اشاروں میں نہ تھا

ہر قدم خاک سے دامن کو بچایا تم نے
پھر یہ شکوہ ہے کہ میں راہ گزاروں میں نہ تھا

تم سا لاکھوں میں نہ تھا جان تمنا لیکن
ہم سا محروم تمنا بھی ہزاروں میں نہ تھا

ہوشؔ کرتے نہ اگر ضبط فغاں کیا کرتے
پرسش غم کا سلیقہ بھی تو یاروں میں نہ تھا

ہوش ترمزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم