MOJ E SUKHAN

وہ جلدباز ایسے اچانک جدا ہوا

غزل

وہ جلدباز ایسے اچانک جدا ہوا
میں سوچ بھی نہ پایا مرے ساتھ کیا ہوا

مجھ سے بہت ہی دور کوئی جا چکا ہے اور
دل ہے کہ پھر امید کوئی باندھتا ہوا

میری چٹان ضبط سے ٹوٹے گی دیکھنا
مجھ میں ہے اس کی یاد کا دریا رکا ہوا

رونا نہ دیکھ میرا تسلی نہ دے مجھے
یہ پوچھ مجھ سے کتنا بڑا حادثہ ہوا

سب آ چکے ہیں جاننے والے سب آ چکے
مرتے ہوئے سے جھوٹ کوئی بولتا ہوا

اک آئنے کی گرد مرے منہ پہ آ پڑی
مدت کے بعد مجھ سے مرا رابطہ ہوا

موج غبار آئی اڑا لے گئی اسے
جاتا بھی کتنی دور مسافر تھکا ہوا

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم