وہ جو دیکھی نہیں جاگیر خریدی جائے
آنکھ سے خواب کی تعبیر خریدی جائے
مسئلہ فن کا نہیں مسئلہ فنکار کا ہے
اس کے گھر سے کوئی تصویر خریدی جائے
کاٹ کر بھوک تنفس کے بقا کی خاطر
جیسے ہو طاقتِ شمشیر خریدی جائے
عشق یہ خاک ہوا عشق کی توہین ہوئی
کیسے رانجھے کے لیے ہیر خریدی جائے
جان وعدے کو ذرا ٹھونک بجا کر دیکھو
کہیں عجلت میں نہ تاخیر خریدی جائے
جان کاشمیری