MOJ E SUKHAN

وہ جو چھپ جاتے تھے کعبوں میں صنم خانوں میں

غزل

وہ جو چھپ جاتے تھے کعبوں میں صنم خانوں میں
ان کو لا لا کے بٹھایا گیا دیوانوں میں

فصل گل ہوتی تھی کیا جشن جنوں ہوتا تھا
آج کچھ بھی نہیں ہوتا ہے گلستانوں میں

آج تو تلخیٔ دوراں بھی بہت ہلکی ہے
گھول دو ہجر کی راتوں کو بھی پیمانوں میں

آج تک طنز محبت کا اثر باقی ہے
قہقہے گونجتے پھرتے ہیں بیابانوں میں

وصل ہے ان کی ادا ہجر ہے ان کا انداز
کون سا رنگ بھروں عشق کے افسانوں میں

شہر میں دھوم ہے اک شعلہ نوا کی مخدومؔ
تذکرے رستوں میں چرچے ہیں پری خانوں میں

مخدوم محی الدین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم