MOJ E SUKHAN

وہ حرف جو فضائے نیل گوں کی وسعتوں میں قید تھا

وہ حرف جو فضائے نیل گوں کی وسعتوں میں قید تھا
وہ صوت جو حصار خامشی میں جلوہ ریز تھی
صدا جو کوہسار کی بلندیوں پہ محو خواب تھی
ردائے برف سے ڈھکی
وہ لفظ جو فضا کے نیلے آنچلوں سے چھن کے
جذب ہو رہا تھا
ریگ زار وقت میں
جو ذرہ ذرہ منتشر تھا
دھندلی دھندلی ساعتوں کی گرد میں
وہ معنیٔ گریز پا
لرز رہا تھا جو رگ حیات میں
وہ رمز منتظر کہ جو ابھی نہاں تھا
بطن کائنات میں
وہ حرف و صوت و صدا
وہ لفظ منتشر
وہ رمز منتشر
وہ معنیٔ گریز پا
بس ایک جست میں
حصار خامشی کو توڑ کر
پگھل کے میرے درد و آرزو کی آنچ میں
نوا و نطق کی صباحتوں میں ڈھل گیا
وہ آبشار نغمہ و نوا
کہ کوہسار سرد سے گرا
کہ گونجتی گپھاؤں سے ابل پڑا
وہ جوئے ذات
نغمۂ حیات
جو رواں دواں ہے بحر بیکراں کی کھوج میں

زاہدہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم