MOJ E SUKHAN

وہ رتجگاتھا کہ افسون خواب طاری تھا

وہ رتجگاتھا کہ افسون خواب طاری تھا
دیئے کی لو پہ ستاروں کا رقص جاری تھا

میں اس کو دیکھتا تھا دم بخود تھا حیراں تھا
کسے خبر وہ کڑا وقت کتنا بھاری تھا

گزرتے وقت نے کیا کیا نہ چارہ سازی کی
وگرنہ زخم جو اس نے دیا تھا کاری تھا

دیار جاں میں بڑی دیر میں یہ بات کھلی
مرا وجود ہی خود ننگ دوست داری تھا

کسے بتاؤں میں اپنی نوا کی رمز اخترؔ
کہ حرف جو نہیں اترے میں ان کا قاری تھا

اختر ہوشیار پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم