MOJ E SUKHAN

وہ ستاروں میں جگمگاتے ہیں

وہ ستاروں میں جگمگاتے ہیں
چاند میں روز آتے جاتے ہیں

خود بھی سوتے نہیں گھڑی بھر کو
رات بھر مجھ کو بھی جگاتے ہیں

دل کا افسانہ بھول جاتا ہوں
اپنی باتیں وہ جب سُناتے ہیں

یہ فراموش کاریاں توبہ!
مجھے رہ رہ کے بھولے جاتے ہیں

رُوح و دل ہوں کہ چشم و گوشِ خیال
ہر مکاں میں وہ پائے جاتے ہیں

وہ بھی ہوتی ہے اِک گھڑی ساغر
ہم خود اپنے کو بُھول جاتے ہیں

ساغر نظامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم