MOJ E SUKHAN

وہ عکس مجھ میں جنوں ساز رقص کرنے لگا

وہ عکس مجھ میں جنوں ساز رقص کرنے لگا
میں آئنے کی طرح ٹوٹنے بکھرنے لگا

شب الم ہے ستاروں سے ہم کلامی ہے
اسی بہانے سفر خیر سے گزرنے لگا

میں تم سے دور ہوا ہوں تو مصلحت ہے کوئی
یہ مت سمجھنا کہ مل کے نشہ اترنے لگا

نہیں رہی ترے نقش قدم کی باس یہاں
یہ راستہ تری یادوں سے اب سنورنے لگا

شمشیر حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم