MOJ E SUKHAN

وہ لوگ جن کو حیات اپنی غموں میں ڈوبی ہوئی ملے گی

غزل

وہ لوگ جن کو حیات اپنی غموں میں ڈوبی ہوئی ملے گی
اگر مرے ساتھ ساتھ آئیں تو اک نئی زندگی ملے گی

انہیں کو ہاں بس انہیں کو اے قیسؔ منزل زندگی ملے گی
مصیبتوں کے ہجوم میں بھی لبوں پہ جن کے ہنسی ملے گی

قفس کی تاریک خلوتوں پر ہیں معترض کیوں یہ اہل دنیا
چمن میں بھی آشیاں جلیں گے تو پھر کہیں روشنی ملے گی

میں تیری آنکھوں کے آسرے پر ہی میکدے سے اٹھا تھا لیکن
یہ کیا خبر تھی کہ تیری آنکھوں سے اور بھی تشنگی ملے گی

اگر اجالوں کی ہے تمنا نہ بجھنے پائے چراغ دل کا
کہ دل میں جب روشنی نہ ہوگی تو ہر طرف تیرگی ملے گی

قسم ہے تم کو مرے مقدر کی یوں سوارو نہ اپنی زلفیں
تمہیں اگر الجھنیں نہ دو گے تو پھر کہاں زندگی ملے گی

یہ لوگ جو خندہ زن ہیں مجھ پر انہیں کچھ اس کی خبر نہیں ہے
کہ میری روداد گمرہی سے زمانے کو رہبری ملے گی

قیس رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم